حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران/ مہاتما گاندھی کے 157ویں یومِ پیدائش کے موقع پر تہران میں ہندوستانی سفارت خانے کے ثقافتی مرکز میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستانی سفیر وشویش نیگی، ایران کی ممتاز ثقافتی و بلدیاتی شخصیات، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور ہندوستانی سفارت خانے کے حکام و عملے نے شرکت کی۔
تقریب کے آغاز میں ثقافتی مرکز کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی۔ بعد ازاں ہندوستانی سفیر وشویش نیگی اور دیگر معزز مہمانوں نے مجسمے پر پھول چڑھا کر گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مہاتما گاندھی، جن کا پورا نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا، 2 اکتوبر 1869ء کو پیدا ہوئے۔ انہیں بیسویں صدی کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران ان کے فلسفۂ ’’ستیاگرہ‘‘ یعنی سچائی کی قوت اور ’’اہنسا‘‘ یعنی عدم تشدد نے پُرامن مزاحمت کو ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔
گاندھی جی کی جدوجہد محض سیاسی آزادی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد اخلاقی اصولوں، ضبطِ نفس، خدمتِ خلق اور مظلوم طبقات کی اخلاقی قوت پر بھی قائم تھی۔ انہی افکار کی عالمی اہمیت کے اعتراف میں اقوام متحدہ نے 2 اکتوبر کو ’’عالمی یومِ عدم تشدد‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی سفیر وشویش نیگی نے مہاتما گاندھی کے افکار کی عالمی معنویت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ 2 اکتوبر صرف ہندوستان میں ایک قومی دن کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دنیا بھر میں عدم تشدد کے عالمی پیغام کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں عدم تشدد، ضبطِ نفس اور عوامی سطح پر پُرامن مزاحمت کو بنیادی ذریعہ بنایا اور یہ تصور آج بھی ایک منقسم دنیا میں اپنی معنویت رکھتا ہے۔
ہندوستانی سفیر نے قربانی اور خدمت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے گاندھی سے منسوب ایک واقعہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک غریب خاتون نے گاندھی کو تانبے کا ایک معمولی سا سکہ دیا، جو اس کے پاس موجود تمام دولت تھی۔ دولت مند افراد کی جانب سے بڑی رقوم عطیہ کیے جانے کے باوجود گاندھی نے اس معمولی سکے کو محفوظ رکھا، کیونکہ ان کے نزدیک اس کی اصل قدر اس میں پوشیدہ قربانی تھی۔

وشویش نیگی نے کہا کہ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی عطیے یا تحفے کی قدر اس کی مالیت سے نہیں بلکہ اس قربانی سے متعین ہوتی ہے جو اسے پیش کرنے والے نے دی ہو۔ ان کے مطابق خدمت اور قربانی کا جذبہ قیادت کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض پر بھی توجہ دے۔
تقریب میں ایرانی ثقافتی اور بلدیاتی شخصیات نے بھی مہاتما گاندھی کی عالمی میراث کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ظلم و جبر کے مقابلے میں ان کی پُرامن جدوجہد، عدم تشدد کے فلسفے اور عالمی امن کے لیے ان کی خدمات کو اجاگر کیا۔
موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ہندوستانی سفیر نے امن، مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اس مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج کا دور جنگ کا دور نہیں ہے‘‘ اور اختلافات کو مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن کو پوری انسانیت کا مشترکہ مقصد ہونا چاہیے اور گاندھی کے افکار کی یہی روح آج بھی عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے۔

ایران و ہندوستان کے دیرینہ تہذیبی روابط
ہندوستانی سفیر وشویش نیگی نے تقریب کے دوران ایران اور ہندوستان کے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی و ثقافتی روابط کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دو قدیم تہذیبوں کے وارث ہیں اور ان کے درمیان ہزاروں برس سے زبان، ادب، فلسفے، فنون اور انسانی و فکری روابط کے ذریعے مسلسل تبادلہ جاری رہا ہے۔
ان کے مطابق فارسی زبان نے ہندوستان میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا، جبکہ ہندوستانی داستانوں، ادبی روایات اور فلسفیانہ افکار نے بھی فارسی بولنے والی دنیا کو متاثر کیا۔ صدیوں کے دوران دونوں تہذیبوں نے نہ صرف ایک دوسرے سے رابطہ رکھا بلکہ مختلف میدانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ فکری و ثقافتی مکالمہ بھی کیا۔
ہندوستانی سفیر نے کہا کہ تہران میں مہاتما گاندھی کا نام بھی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دیرینہ قربت اور دوستی کی ایک علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے تہران میں گاندھی کے نام سے منسوب سڑک، ہسپتال اور دیگر مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام دونوں اقوام کے درمیان عوامی اور تاریخی روابط کی یاد دلاتے ہیں۔

گاندھی جی کا مجسمہ؛ ایران و ہندوستان دوستی کی نئی علامت
وشویش نیگی نے کہا کہ تہران میں مہاتما گاندھی کا مجسمہ نصب کیا جانا ایران اور ہندوستان کے دیرینہ تعلقات میں ایک نئی علامت کا اضافہ ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مجسمہ دونوں قدیم تہذیبوں کے درمیان دوستی، باہمی احترام اور مسلسل مکالمے کی علامت بنے گا اور لوگوں کو ایک ایسی دنیا کے تصور کی طرف متوجہ کرے گا جہاں تصادم کے بجائے مکالمے، نفرت کے بجائے ہمدردی، تعصب کے بجائے باہمی سمجھ بوجھ اور تشدد کے بجائے امن کو ترجیح حاصل ہو۔

تقریب کے اختتام پر مہاتما گاندھی کے مجسمے کو تہران میں ہندوستانی ثقافتی مرکز کے احاطے میں مستقل طور پر نصب کر دیا گیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ گاندھی کی امن، عدم تشدد، خدمت اور باہمی احترام پر مبنی تعلیمات ایران اور ہندوستان کے درمیان جاری ثقافتی و سفارتی مکالمے کے لیے ایک مشترکہ فکری بنیاد کا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایران اور ہندوستان کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کی بھی عکاس تھی۔










آپ کا تبصرہ